|
اجتما ع مہدي? اور عيسي?? نا ممکن
القرآن: اور بيشک وہ (عيس?ي عليہ السلام) قيامت کي علامت ہوں گے، پس تم ہرگز اس ميں شک نہ کرنا اور ميري پيروي کرتے رہنا، يہ سيدھا راستہ ہے(43:61
- حضرت جعفرصادق رضي اللہ عنہ روايت کرتے ہيں کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا? وہ امّت کيسے ہلاک ہو سکتي ہے جس کے شروع ميں ميں (سردارِ دو عالم) ہون، درميان ميں مہدي اور آخر ميں حضرت مسيح ہيں –( رزين، حاکم، ابو نعےم، مشک?وة،کنز العمال، ا لکنجي، الاربلي، ابن عساکر-تارےخ دمشق، ابن المغازلي - مناقب علي، الکنجي - البيان، جامع السيوطي، الجويني - فرائد السمطين في فضائل السبطين، العلائي - التحصيل، جلال الدين السيوطي - تاريخ الخلفء
- حضرت انس رضي اللہ عنہ سے روايت ہے کے فرمايا رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے تم ميں سے جو شخص عيسي? بن مريم عليہ السلام کو پائے ا تو ميري جانب سے ان کو سلام پہنچائے-)حاکم
- فرمايا رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے تمہارا کيا حال ہوگا جبکے تم ميں ابن مريم نازل ہوں گے وہ تمہاري امامت کريں گے?(مسلم
- حضرت سيدنا ابوسعيد خدري رضي اللہ عنہ کہتے ہيں کے رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا: جب دو خليفوں سے بيعت کي جائے، تو جس سے اخير ميں بيعت ہو ئي ہو اس کو مارڈالو(اس لئے کے اس کي خلافت پہلے خليفہ کے ہو تے ہوئے باطل ہے)? (مسلم
- حضرت سيدنا حذيفہ بن اسيد غفاري رضي اللہ عنہ کہتے ہيں کے رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم باتيں کر رہے تھے? آپ سلم نے فرمايا کے تم کيا باتيں کر رہے ہو؟ ہم نے کہا کے قيامت کا ذکر کر تے تھے? آپ سلم نے فرمايا کے قيامت قائم نہ ہوگي جب تک کے دس نشانياں اس سے پہلے نہيں ديکہ لو گے? پھر ذکر کيا دھوئيں کا، دجال کا، زمين کے جانور کا، سورج کے مغرب سے نکلنے کا، عيسي? عليہ السلام کے اتر نے کا، ياجوج ماجوج کے نکلنے کا، تين جگہ حسف کا يعني زمين کا دھنسنا ايک مشرق ميں، دوسرے مغرب ميں، تيسرے جزيرہء عرب ميں? اور ان سب نشانيوں کے بعد ايک آگ پيدا ہوگي جو يمن سے نکلے گي اور لوگوں کو ہانکتي ہوئي محشر کي طرف لے جائے گي (محشر شام کي زمين ہے)? (مسلم
- حضرت نواس بن سمعان رضي اللہ عنہ سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ايک صبح کو دجال کا ذکر کيا تو کبھي اس کو گھٹايا اور کبھي بڑھايا (يعني کبھي اس کي تحقير کي اور کبھي اس کے فتنہ کو بڑا کہا يا کبھي بلندآواز سے گفتگو کي اور کبھي پست آواز سے)، يہاں تک کہ ہم نے گمان کيا کہ دجال کھجور کے درختوں کے جھنڈ ميں ہے? پھر جب شام کے وقت ہم آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے پاس گئے تو آپصلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ہمارے چہروں پر اس کا اثر معلوم کيا (يعني ڈراورخوف)? آپصلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا کہ تمہارا کيا حال ہے؟ ہم نے عرض کيا کہ يا رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ! آپ نے دجال کا ذکر کيا اور اس کو گھٹايا اور بڑھايا، يہاں تک کہ ہميں گمان ہو گيا کہ دجال ان کھجور کے درختوں ميں موجود ہے(يعني اس کا آنا بہت قريب ہے)? رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا کہ مجھے دجال کے سوا اور باتوں کا تم پر خوف زيادہ ہے (يعني فتنوں کا اور آپس کي لڑائيوں کا)، اگر دجال نکلا اور ميں تم لوگوں ميں موجود ہوا تو تم سے پہلے ميں اس کا مقابل ہوں گا (اس سے لڑائي کروں گا) اور تمہيں اسکے شر سے بچاؤں گا اور اگر وہ نکلا اور ميں تم لوگوںميں موجود نہ ہوا تو ہر مردِ (مسلمان) اپني طرف سے اس سے مقابلہ کرے گا اور اللہ تعالي? ہر مسلمان پر ميرا خليفہ اور نگہبان ہوگا? البتہ دجال تو جوان، گھونگريالے بالوں والا ہے، اس کي آنکھ ابھري ہوئي ہے گويا کہ ميں اس کي مشابہت عبد العزي? بن قطن کيساتھ ديتا ہوں? پس تم ميں سے جو شخص دجال کو پائے، اس کو چاہيئے کہ سورہء کہف کي شروع کي آيتيں اس پر پڑھے? يقينا وہ شام اور عراق کے درميان کي راہ سے نکلے گا تو اپنے دائيں اوربائيں ہاتھ فساد پھيلائے گا? اے اللہ کے بندو! ايمان پر قائم رہنا? صحابہ رضي اللہ عنہ بولے کہ يارسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ! وہ زمين پر کتني مدت رہے گا؟ آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا کہ چاليس دن تک، ان ميں سے ايک دن ايک سال کے برابر ہوگا، ايک دن ايک مہينے کے برابر، ايک دن ايک ہفتہ کے برابر اور باقي دن جيسے يہ تمہارے دن ہيں (تو ہمارے دنوں کے حساب سے دجال ايک برس دومہينے اور چودہ دن تک رہے گا) صحابہ رضي اللہ عنہ نے عرض کيا کہ يا رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ! جو دن سال بھر کے برابر ہوگا، اس دن ہميں ايک ہي دن کي نمازيں کفايت کرے گي؟ آپصلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا کہ نہيں، تم اس دن ميں (سال کي نمازوںکا)(اب تو گھڑياں بھي موجود ہيں ان سے وقت کا اندازہ بخوبي ہو سکتا ہے? نووي رحمتہ اللہ عليہ نے کہا کہ اگر آپصلي اللہ عليہ وآلہ وسلم يوں صاف نہ فرماتے تو قياس يہ تھا کہ اس دن صرف پانچ نمازيں پڑھنا کافي ہوتيں، کيونکہ ہر دن رات ميں خواہ وہ کتنا ہي بڑا ہو، اللہ تعالي? نے پانچ نمازيں فرض کي ہيں مگر يہ قياس نص سے ترک کيا گيا ہے? مترجم کہتا ہے کہ عرض تسعين ميں، جو کہ خطِ استوا سے نوے درجہ پر واقع ہے اور جہاں کاافق معدل النہار ہے، چھے مہينے کا دن اور چھے مہينے کي رات ہوتي ہے تو ايک دن رات سال بھر کا ہوتا ہے، پس اگر بالفرض انسان وہاں پہنچ جائے اور زندہ رہے تو سال ميں پانچ نمازيں پڑھنا ہوں گي)? صحابہ رضي اللہ عنہ نے عرض کيا کہ يا رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم! اس کي چال زمين ميں کيسي ہوگي؟ آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا کہ اس بادل کي طرح جس کو ہوا پيچھے سے اڑاتي ہے? پس وہ ايک قوم کے پاس آئے گا اور ان کو دعوت دے گا، وہ اس پر ايمان لائيں گے اور اس کي بات مانيں گے? پس وہ آسمان کو حکم کرے گا تو وہ پاني برسائے گا اور زمين کو حکم کرے گا تو وہ گھاس اور اناج اگادے گي? شام کو ان کے جانور آئيں گے تو ان کے کوہان پہلے سے زيادہ لمنے ہوں گے، تھن کشادہ ہوں گے اور کوکھيں تني ہوئي(يعني خوب موٹي ہوکر)? پھر دجال دوسري قوم کے پاس آئے گا? ان کو بھي دعوت دے گا، ليکن وہ اس کي بات کو نہ مانيں گے? تو ان کي طرف سے ہٹ جائے گا اور ان پر قحط سالي اور خشکي ہوگي? ان کے ہاتھوں ميں ان کے مالوں سے کچھنہ رہے گا? اور دجال ويران زمين پر نکلے گا تو اس سے کہے گا کہ اے زمين! اپنے خزانے نکال، تو وہاں کے مال اور خزانے نکل کر اس کے پاس ايسے جمع ہوجائيں گے جيسے شہد کي مکھياںسردار مکھي کے گردہجوم کرتي ہےں? پھر دجال ايک جوان مرد کو بلائے گا اور اس کو تلوار مار کر دوٹکڑے کرڈالے گا جيسے نشانہ دوٹوک ہو جاتا ہے، پھر اس کو زندہ کر کے پکارے گا، پس وہ جوان دمکتے ہوئے چہرے کيساتھ ہنستا ہوا سامنے آئے گا? سودجال اسي حال ميں ہوگا کہ اچانک اللہ تعالي? سيد نا عيسي? بن مريم عليہما السلام کو بھيجے گا? عيسي? عليہ السلام دمشق کے شہر ميں مشرق کي طرف سفيد مينار کے پاس اتريں گے، وہ زردرنگ کا جوڑا پہنے ہوئے ہوں گے اور اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے? جب عيسي? عليہ السلام اپنا سر جھکائيں گے تو پسينہ ٹپکے گا اور جب اپنا سر اٹھائيں گے تو موتي کي طرح بونديں بہيں گي? جس کا فرتک عيسي? عليہ السلام کے دم کي خوشبو پہنچے گي، وہ مرجائے گا اور ان کے دَم کا اثر وہاں تک پہنچے گا جہاں تک ان کي نظر پہنچے گي? پھر عيسي? عليہ السلام دجال کو تلاش کريں گے يہاں تک کہ اس کو بابِ لُد(نامي پہاڑ جو کہ شام ميں ہے) پر موجود پاکر اس کو قتل کرديں گے? پھر عيسي? عليہ السلام کے پاس وہ لوگ آئيں گے جن کو اللہ تعالي? نے دجال کے شر سے بچايا ہوگا? پس وہ شفقت سے ان کے چہروں کو سہلائيں گے اور ان کو ان درجوں کي خبر ديں گے جو جنت ميں ان کے رکھے ہيں? وہ اسي حال ميں ہوں گے کہ اللہ تعالي? عيسي? عليہ السلام پر وحي بھيجے گا کہ ميں نے اپنے ايسے بندے نکالے ہيں کہ کسي کو ان سے لڑنے کي طاقت نہيں، تم ميرے مسلمان بندوں کو طُور (پہاڑ) کي طرف پناہ ميں لے جاؤ اور اللہ تعالي? ياجوج اور ماجوج کو بھيجے گا اور وہ ہر ايک اونچان سے نکل پڑيں گے? ان کے پہلے لوگ طبرستان کے دريا پر گزريں گے اور اس کا سارا پاني پي ليں گے? پھر ان ميں سے پچھلے لوگ جب وہاں آئيں گے تو کہيں گے کہ کبھي اس دريا ميں پاني بھي تھا? (پھر چليں گے يہاں تک کہ اس پہاڑ تک پہنچيں گے جہاں درختوںکي کثرت ہے يعني بيت المقدس کا پہاڑ تو وہ کہيں گے کہ البتہ ہم زمين والوں کو تو قتل کر چکے، اب آؤ آسمان والوں کو قتل کريں تو اپنے تير آسمان کي طرف چلائيں گے? اللہ تعالي? ان تيروں کو خون ميں بھر کر لوٹا دے گا، وہ يہ سمجھيں گے کہ آسمان کے لوگ بھي مارے گئے يہ مضمون اس روايت ميں نہيں ہے بلکہ اس کے بعد کي روايت سے ليا گيا ہے) اور اللہ تعالي? کے پيغمبر عيسي? عليہ السلام اور ان کے اصحاب بند رہيں گے يہاں تک کہ ان کے نزديک بيل کا سر تمہاري آج کي سواشرفي سے افضل ہوگا (يعني کھانے کي نہايت تنگي ہوگي)? پھر اللہ کے پيغمبر عيسي? عليہ السلام اور ان کے ساتھي دعا کريں گے، پس اللہ تعالي? ياجوج ماجوج کے لوگوں پر عذاب بھيجے گا تو ان کي گردنوں ميں کيڑاپيدا ہوگا تو صبح تک سب مرجائيں گے جيسے ايک آدمي مرتا ہے پھر اللہ کے رسول عيسي? عليہ السلام اور ان کے ساتھ زمين پر اتريں گے تو زمين ميں ايک بالشت برابر جگہ ان کي سڑانداور گندگي سے خالي نہ پائيں گے (يعني تمام زمين پر ان کي سڑي ہوئي لاشيں پڑي ہوں گي) پھر اللہ کے رسول عيسي? عليہ السلام اور ان کے ساتھ اللہ سے دعا کريں گے تو اللہ تعالي? بڑےاونٹوں کي گردن کے برابر پرندے بھيجے گا، وہ ان کو اٹھالے جائيں گے اور وہان پھينک ديں گے جہاں اللہ کا حکم ہوگا، پھر اللہ تعالي? ايسا پاني برسائے گا کہ پھر زمين کو حکم ہوگا کہ اپنے پھل جما اور اپني برکت کو پھيردے اور اس دن ايک انار کو ايک گروہ کھائے گا اور اس کے چھلکے کو بنگلہ سابنا کر اس کے سايہ ميں بيٹھيں گے اور دودھ ميں برکت ہوگي، يہاں تک کہ دودھ والي اونٹني آدميوں کے بڑے گروہ کو کفايت کرے گي اور دودھ والي گائے ايک برادري کے لوگوں کو کفايت کرے گي اور دودھ والي بکري ايک پورے خاندان کو کفايت کرے گي? پس لوگ اسي حالت ميں ہوں گے کہ يکايک اللہ تعالي? ايک پاک ہوا بھيجے گا، وہ ان کي بغلوں کے نيچے لگے گي اور اثر کر جائے گي تو ہر مومن اور مسلم کي روح کو قبض کرے گي اور بُرے بدذات لوگ باقي رہ جائيں گے، گدھوں کي طرح سرعام عورتوں سے جماع کريں گے اور ان پر قيامت قائم ہوگي? (مسلم
|